18 اگست 2026 - 15:53
لبنان: حسن عزالدین: مزاحمت علی الطاہر کی چوٹی سے پیچھے نہیں ہٹے گی

لبنانی پارلیمنٹ کے وفاداری برائے مزاحمت پارلیمانی اتحاد کے رکن حسن عزالدین نے کہا ہے کہ مزاحمت علی الطاہر کی چوٹی پر اپنی پوزیشن سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حملے کی صورت میں مزاحمت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جواب دے گی اور کسی بھی صورت سفید جھنڈا نہیں لہرائے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسن عزالدین نے روسی ریڈیو اسپوتنک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ علی الطاہر کی چوٹی محض ایک محاذ نہیں بلکہ لبنان بالخصوص جنوبی علاقوں کی صورتحال سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت اس مقام کو خالی نہیں کرے گی اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میں اپنی قومی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے تمام دستیاب صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے مدد ملنے کی صورت میں اسے مزاحمت کی طاقت بڑھانے والا عنصر سمجھا جائے گا۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ نے فریم ورک معاہدے کو بھی غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ ابتدا ہی سے ناکام تھا اور اس کا مطلب لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی عوام میں غصہ بدستور موجود ہے، تاہم سڑکوں پر احتجاج سمیت عوامی قوت کے استعمال کا فیصلہ حالات اور مناسب وقت کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

حسن عزالدین نے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے لبنانی فوج کو مسلح اور مضبوط بنانے کے معاملے میں ملک کی سیاسی قیادت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

جنگ کے دائرہ کار میں ممکنہ توسیع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جنگ کی صورتحال میں فیصلہ سازوں کو تمام ممکنہ منظرناموں اور خطرات کو مدنظر رکھنا چاہیے اور مزاحمت کو بھی ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا۔

انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو سیاسی فائدے کے لیے کسی کامیابی کے حصول کا خواہش مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت علی الطاہر کی چوٹی پر قبضے کی کسی بھی کوشش کے خلاف کھڑی رہے گی اور کسی بھی حالت میں سفید جھنڈا نہیں لہرائے گی۔

حزب اللہ اور شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع کے درمیان ممکنہ تعلقات کے بارے میں حسن عزالدین نے کہا کہ ترکی نے اس حوالے سے پہلے ایک تجویز پیش کی تھی اور اس کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد حزب اللہ اپنا مؤقف واضح کرے گی۔

انہوں نے حزب اللہ اور ترکی کے تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے احمد الشرع کے معاملے کو استعمال کرنے کی کوشش زیادہ تر دباؤ اور دھمکی کی نوعیت رکھتی ہے۔

حسن عزالدین نے کہا کہ شام کے بارے میں حزب اللہ کا مؤقف واضح ہے، تاہم اگر سیاسی حالات سازگار ہوں اور فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو تو دونوں جانب کی قیادت کے درمیان ملاقات کا امکان موجود ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha